ابنا: سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی نے عراق میں سرگرم ایک دہشتگرد گروہ سے رابطہ کر کے اس سے کہا ہے کہ وہ عراق کی سنی شخصیات کو اپنی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناۓ ۔
عراق میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں سعودی عرب کی شرکت کا سب سے اہم محرک اہل تشیع کے خلاف تشہیراتی مہم شروع کروانا اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ عراق میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعات میں ایران ملوث ہے۔
سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ مقرن بن عبدالعزیز ان افراد میں سے ہے جن کا عراق میں دہشتگردانہ گروہوں کے ساتھ رابطہ رہا ہے اور اس نے عراق میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کو ذاتی طور پر حکم دیا ہے کہ وہ عراق میں اہل سنت کے پانچ سے دس تک علماء ، پروفیسروں اور ممتاز شخصیات کو قتل کردیں تاکہ اس ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پیدا ہوجائيں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی نے عراق میں سرگرم دہشتگرد
گروہوں کو ایک ذمے داری یہ سونپی ہے کہ وہ شیعہ گروہوں میں اثرو رسوخ حاصل کریں۔ سعودی عرب اور قطر کا شمار خلیج فارس کے ان ساحلی ممالک میں سے ہوتا ہے جنھوں نے کبھی بھی عراق میں اقتدار کے تناسب کے بارے میں اپنی ناراضگی چھپائی نہیں ہے۔ اب بھی جبکہ عراق شام مخالف اتحاد میں شامل نہیں ہوا ہے ریاض اور دوحہ نے علانیہ طور پر عراق کے خلاف دشمنی کا علم بلند کر رکھا ہے۔
قرائن اور ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور قطر نے عراق میں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع کروانے کے لۓ بے تحاشا دولت خرچ کی ہے۔عراق میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کو عراق کی ممتاز شخصیات کے قتل کی ذمے داری سونپی گئي ہے جن میں علی الادیب ، علاء مکی، صالح المطلک ، باقر صولاغ ، احمد چلبی اور نوری مالکی شامل ہیں۔ اور یہ طے پایا گيا تھا کہ ان شخصیات کے قتل میں عراق کے قومی اتحاد کو ملوث بتایا جاۓ تاکہ اس ملک میں خانہ جنگی کو شروع کیا جا سکے۔
سعودی عرب کے مختلف شہروں میں موجود کیپموں میں دہشتگردوں کی تربیت بھی بغداد کے خلاف سعودی عرب کے مخاصمانہ اقدامات کا حصہ ہے۔ یہ دہشتگرد سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کی زیر نگرانی تربیت حاصل کرنے کے بعد عراق میں دہشتگردانہ کارروائیاں انجام دینے کے لۓ اس ملک کا رخ کرتے ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران عراق میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے دسیوں دہشتگردوں کی گرفتاری سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ریاض نے نوری مالکی کی حکومت کے خلاف بڑی گھناؤنی سازش تیار کر رکھی ہے۔ البتہ اس بات کا ادراک عراقی حکام کو بھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عراقی وزیر اعظم نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کا ڈٹ کر مقابلے کریں گے۔ اس کے علاوہ عراقی حکومت نے بارہا کہا ہے کہ اگرچہ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنے کی خواہشمند ہے لیکن وہ کسی بھی ملک کو اپنے داخلی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔
صحافتی ذرائع نے بغداد حکومت کے اس موقف کو ریاض کے لۓ ایک طرح کا الٹی میٹم قرار دیا ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ حال ہی میں عراق میں دسیوں دہشتگرد گرفتار ہوۓ ہیں جو سعودی عرب کی شہریت کے حامل ہیں۔ اور ان میں سے بعض نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک کی خفیہ ایجنسی نے ان کو عراق میں دہشتگردانہ کاررائیاں انجام دینے کے لۓ پیسے دیۓ ہیں۔............... /169